کبھی کبھی زندگی کی مصروفیات، پریشانیاں اور روزمرہ کے مسائل انسان کے دل کو تھکا دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں دل کسی ایسی چیز کی تلاش کرتا ہے جو اسے سکون دے، اللہ کی قدرت یاد دلائے اور یہ احساس پیدا کرے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔
قرآنِ مجید کی ایسی ہی عظیم آیات میں آیت الکرسی کا مقام بہت خاص ہے۔
آیت الکرسی صرف چند الفاظ پر مشتمل ایک آیت نہیں، بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت، علم، عظمت اور پوری کائنات پر اس کی حاکمیت کا ایسا جامع بیان موجود ہے جو انسان کو غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 255 ہے اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی قرآنی آیات میں شمار ہوتی ہے۔
آیت الکرسی مکمل عربی متن
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
آیت الکرسی کا اردو ترجمہ
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور تمام مخلوقات کو سنبھالنے والا ہے۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔
کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان سے پوشیدہ ہے۔ لوگ اس کے علم میں سے صرف اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا وہ چاہے۔
اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ وہی سب سے بلند اور عظمت والا ہے۔
آیت الکرسی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
آیت الکرسی کو صرف پڑھنے کے بجائے اس کے مفہوم پر چند لمحے غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ایک آیت میں ایمان کے کتنے بڑے حقائق بیان کر دیے گئے ہیں۔
آیت کا آغاز ہی اس اعلان سے ہوتا ہے:
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ
یعنی اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔
انسان دنیا میں بہت سی چیزوں پر بھروسہ کرتا ہے۔ کبھی اپنے مال پر، کبھی اپنی صلاحیت پر، کبھی کسی طاقت ور انسان پر اور کبھی اپنے منصوبوں پر۔ لیکن آیت الکرسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو الْحَيُّ الْقَيُّومُ کہا گیا ہے۔
وہ ہمیشہ زندہ ہے اور پوری کائنات اسی کے حکم سے قائم ہے۔
دنیا کے طاقت ور سے طاقت ور انسان کو بھی آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں فرمایا گیا:
لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ
نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔
یہ الفاظ انسان کے دل میں ایک عجیب اطمینان پیدا کرتے ہیں۔ دنیا سو سکتی ہے، لوگ آپ کی پریشانی سے بے خبر ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کبھی غافل نہیں ہوتا۔
اللہ کے علم کی وسعت
آیت الکرسی میں ایک اور نہایت خوبصورت حقیقت بیان کی گئی ہے:
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
اللہ تعالیٰ ہمارے حال سے بھی واقف ہے اور ان چیزوں سے بھی جنہیں ہم نہیں جانتے۔
انسان مستقبل کے بارے میں اکثر پریشان رہتا ہے۔
کل کیا ہوگا؟
میرا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
آنے والا وقت کیسا ہوگا؟
لیکن جس رب پر ہم بھروسہ کرتے ہیں اس کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب کو گھیرے ہوئے ہے۔
ہم اپنی زندگی کے صرف چند قدم دیکھ سکتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ پوری راہ جانتا ہے۔
شاید یہی احساس توکل کو مضبوط کرتا ہے۔
آیت الکرسی کی فضیلت
آیت الکرسی کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ احادیث میں اسے قرآن کی عظیم ترین آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔
حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے متعلق صحیح مسلم کی روایت میں آیت الکرسی کو قرآن کی سب سے عظیم آیت قرار دیا گیا ہے۔
اس کی وجہ اس کے الفاظ پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ پوری آیت اللہ تعالیٰ کی صفات اور عظمت کا بیان ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ:
اللہ ایک ہے۔
وہ ہمیشہ زندہ ہے۔
پوری کائنات اسی کے ذریعے قائم ہے۔
اسے نیند یا غفلت نہیں آتی۔
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔
اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔
اور آسمانوں اور زمین کی حفاظت اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔
آخر میں فرمایا گیا:
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
اور وہی سب سے بلند، عظمت والا ہے۔
سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنا
بہت سے مسلمان رات کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں، اور اس کی بنیاد صحیح حدیث میں موجود ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ایک معروف واقعے میں رات کے وقت آیت الکرسی پڑھنے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے حفاظت رہتی ہے اور شیطان صبح تک قریب نہیں آتا۔
اسی وجہ سے سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنا مسلمانوں کے معمولات میں ایک خوبصورت عمل بن گیا ہے۔
رات کو بستر پر جانے سے پہلے چند لمحوں کے لیے دنیا کے معاملات سے توجہ ہٹا کر آیت الکرسی پڑھنا انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ ہماری اصل حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
آیت الکرسی کو سمجھ کر پڑھیں
بعض اوقات ہم قرآن کی چند سورتیں اور آیات اتنی مرتبہ پڑھتے ہیں کہ الفاظ زبان پر تو آ جاتے ہیں لیکن ان کے معنی پر توجہ کم رہ جاتی ہے۔
آیت الکرسی کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
جب کہیں:
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ
تو دل میں اللہ کی وحدانیت کا احساس تازہ کریں۔
جب پڑھیں:
الْحَيُّ الْقَيُّومُ
تو یاد کریں کہ ہمارا رب ہمیشہ زندہ اور پوری کائنات کو سنبھالنے والا ہے۔
اور جب پڑھیں:
وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا
تو سوچیں کہ آسمانوں اور زمین کی حفاظت بھی اللہ تعالیٰ کو تھکا نہیں سکتی۔
جو رب اتنی بڑی کائنات کی حفاظت کر رہا ہے، اس کے لیے ہمارے حالات، پریشانیاں اور ضروریات پوشیدہ نہیں ہیں۔
آیت الکرسی کب پڑھنی چاہیے؟
آیت الکرسی قرآنِ مجید کا حصہ ہے، اس لیے اسے کسی بھی مناسب وقت پڑھا جا سکتا ہے۔
البتہ مسلمانوں میں خاص طور پر سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے کا اہتمام معروف ہے، کیونکہ اس بارے میں صحیح حدیث موجود ہے۔
اسی طرح بہت سے مسلمان اپنی روزمرہ کی تلاوت اور اذکار میں بھی اسے شامل رکھتے ہیں۔
اہم بات صرف یہ نہیں کہ اسے کتنی مرتبہ پڑھا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے احترام، توجہ اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کے ساتھ پڑھا جائے۔۔
آیت الکرسی یاد کرنا کیوں اچھا ہے؟
آیت الکرسی زیادہ طویل نہیں ہے۔ تھوڑی سی مسلسل کوشش سے اسے آسانی سے یاد کیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص اسے ابھی تک حفظ نہیں کر سکا تو روزانہ چند سطریں پڑھ کر یاد کرنا شروع کر سکتا ہے۔
خصوصاً بچوں کو آیت الکرسی صرف زبانی یاد کروانے کے بجائے آسان زبان میں اس کا مفہوم بھی سمجھایا جائے تو وہ اس سے زیادہ مضبوط تعلق قائم کر سکتے ہیں۔
مثلاً بچے کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ آیت الکرسی ہمیں بتاتی ہے کہ:
اللہ ہمیشہ ہمارے حالات سے واقف ہے۔
اللہ کو کبھی نیند نہیں آتی۔
پوری دنیا اللہ کی ملکیت ہے۔
اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
اور پوری کائنات کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
اس طرح قرآن صرف یاد کیے جانے والے الفاظ نہیں رہتا بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آیت الکرسی کا سب سے خوبصورت پیغام
اگر آیت الکرسی کے پورے مفہوم کو چند الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو شاید اس کا ایک بڑا پیغام یہ ہے:
اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
ہماری زندگی میں بہت سی چیزیں ہمارے قابو میں نہیں ہوتیں۔
ہم ہر آنے والے دن کو نہیں جانتے۔
ہم ہر مشکل کو روک نہیں سکتے۔
ہم ہر انسان کا دل نہیں بدل سکتے۔
لیکن ہمارا رب وہ ہے جس کے علم اور اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں۔
یہ احساس انسان کے اندر خوف کے بجائے توکل اور بے یقینی کے بجائے امید پیدا کرتا ہے۔
آخر میں
قرآنِ مجید کی آیات کو صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ ان کے معنی اور پیغام کو سمجھنا بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اگر آپ قرآنِ پاک، مختلف سورتوں، دعاؤں اور دیگر اسلامی موضوعات کے بارے میں مزید آسان اردو میں جاننا چاہتے ہیں تو قرآن گائیڈ اردو پر مزید قرآنی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔